ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پرشانت بھوشن کی توہین عدالت میں نظرثانی درخواست سے پہلے اپنی دو درخواستوں پر غور کرنے کی اپیل 

پرشانت بھوشن کی توہین عدالت میں نظرثانی درخواست سے پہلے اپنی دو درخواستوں پر غور کرنے کی اپیل 

Tue, 15 Dec 2020 22:48:15    S.O. News Service

نئی دہلی، 15 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے منگل کے روز سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں اپیل کی گئی ہے کہ انھیں توہین عدالت مجرٹھہرانے اورسزاکے حکم پرنظرثانی کیلئے دائر دو درخواستوں کو ان کی علیحدہ دائر پٹیشن پر فیصلہ ہونے کے بعد درج کیا جائے۔ اس علیحدہ درخواست میں بھوشن نے ایسے معاملے میں اپیل کرنے کے حق کا سوال اٹھایا ہے۔

پرشانت بھوشن نے چیمبر میں اپنی نظر ثانی کی درخواستوں پر غور کرنے سے ایک دن قبل جسٹس اے ایم خان ویلکر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے یہ درخواست دائر کی ہے۔ بدھ کے روز بھوشن کی توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے اور سزا دینے کے احکامات کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں کو ججوں کے چیمبر میں بدھ کے روز غور کرنے کے لئے درج کیا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے 27 جون اور 22 جولائی کو عدلیہ کو اپنی دو اشتعال انگیز ٹویٹس کے لئے پرشانت بھوشن کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ان ٹویٹس کے لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ عوامی مفاد میں عدلیہ کے کام کی یہ منصفانہ تنقید تھی۔ عدالت عظمی نے بعدازاں 31 اگست کو پرشانت بھوشن کو ایک روپے کے نظریاتی جرمانے یا تین ماہ کی معمولی قید اور تین سال تک کسی بھی معاملے میں پیش ہونے پر پابندی کی سزا سنائی تھی۔ بھوشن نے 12 ستمبر کو جرمنی کی رقم عدالت کی رجسٹری میں جمع کروائی تھی اور ایسے معاملے میں اپیل کے حق کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے ایک علیحدہ پٹیشن دائر کی تھی۔ منگل کو ایڈووکیٹ کامنی جیسوال کے توسط سے دائر درخواست میں بھوشن نے کہا ہے کہ ان کی 12 ستمبر کی پٹیشن کا براہ راست تعلق ان کی نظر ثانی کی درخواستوں سے ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جلد سماعت کے لئے اس درخواست کے اندراج کے لئے 14 ستمبر کو درخواست دینے کے باوجود معاملہ ابھی تک درج نہیں کیا گیا ہے، جب کہ نظرثانی کی درخواستیں اچانک 16 دسمبر 2020 کو درج کردی گئیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالت عظمی ان کی علیحدہ درخواست پر فیصلہ سنانے کے بعد نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلہ دیتی ہے تو یہ انصاف کے مفاد میں ہوگا۔


Share: